October 22, 2017
You can use WP menu builder to build menus

بس پریس۔کام۔ بارسلونا حملہ میں گرفتار ہونے والے چاروں افراد، آج منگل کے روز عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔ قانون کے تحت دہشت گردی کے الزام میں گرفتار افراد کو پولیس 5 دن تک اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔ ان گرفتار شدگان کو یہ مدت پوری ہونے پر عدالت میں پیش کیا جا سکا ہے۔ اس دوران پولیس نے گرفتار شدگان سے تفتیش کا عمل جاری رکھا ہے۔ عدالت میں پیش ہونے والوں میں محمد ہولی چیمیال، واحد شخص ہے۔ جو کہ ال کانار کے گھر میں ہونے والے دھماکہ میں زندہ بچ گیا تھا۔ اور زخمی حالت میں پولیس کی تحویل میں ہے۔ ال کانار میں ہونے والے دھماکے میں گروپ لیڈر امام مسجد ریپویع عبدالباقی ال ساتی بھی ہلاک ہو گیا تھا۔ دوسرا گرفتار شدہ محمد اعلی ہے۔ جو کہ اس گاڑی کا مالک ہے۔ جس میں اس کے بھائی یوسف اعلی نے کمبریلز، تاراگونا میں دہشت گرد حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ جس میں پولیس نے تمام 5 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ تیسرا گرفتار شدہ دریس او کبیر ہے۔ دریس نے خود تھانہ پیش ہو کر گرفتاری دی تھی۔ گرفتاری کے وقت دریس نے موقف اختیار کیا تھا۔ کہ، اس کے بھائی 17 سالہ موسی نے اس کے شناختی کاغذات کو چرا کر ویگن کرایہ پر حاصل کی تھی۔ جسے بعد ازاں بارسلونا حملہ میں استعمال کیا گیا تھا۔ جس میں 13 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ دریس کے بھائی موسی کو پولیس نے کمبریلز میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ چوتھا گرفتار صالح ال کاریب ہے۔ جو کہ ریپویع میں پی سی او کا مالک ہے۔ اور زیادہ تر دہشت گرد اس کے گھر میں بطور کرایہ دار مقیم رہے ہیں۔ف۔ال پریودیکو 

Comments are closed.

error: Content is protected !!