August 21, 2017
You can use WP menu builder to build menus

سپین سپریم کورٹ نے آتونامو ٹیکس ادا کرنے والے افراد کو بھی کمپنی بنانےکی غرض سے 100 فیصد بیروزگاری الائونس وصول کرنے کا حق دار ٹھہرا دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک آتونامو ٹیکس ادا کرنے والے فرد کی جانب سے محکمہ روزگار کےخلاف دی گئی  درخواست کے فیصلہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جس میں پہلے سے ہی، آتونامو ٹیکس ادا کرنے والے ایک شخص نےنئی کمپنی بنانے کیلئے، اپنا بیروزگاری الائونس یکمشت وصول کیا تھا۔ جس پر ایک سال بعد محکمہ روزگار نے اس شخص کو، 19٫567 یورو واپس ادا کرنے کا مطالبہ کر دیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ، قانونی طور پر 100 فیصد بیروزگاری الائونس، صرف اس صورت میں وصول کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ آپ نے اپنا ذاتی کاروبارشروع کرنا ہو یا پہلے سے موجود کسی کمپنی کا حصہ دار بننا ہو۔ سپریم کورٹ سپین نے سرکاری وکیل کے دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلہ میں واضح کیا ہےکہ قانونی طورپر 100 فیصد بیروزگاری الائونس صرف اس وقت وصول کیا جاسکتا ہے، جبک آپ نے آتونامو ٹیکس دہندہ کے طور پر اندراج کروانا ہو یا نئی کمپنی میں بطور حصہ دار شامل ہونا ہو۔ لیکن، قانون کہیں بھی پہلے سے آتونامو ٹیکس ادا کرنے والے افراد کو کسی کمپنی کا حصہ دار بننے کیلئے 100 فیصد بیروزگاری الائونس وصول کرنے سے روک نہیں رہا ہے۔ اس لئے محکمہ روزگار کا 19٫567 یورو واپس وصولی کا مطالبہ درست نہیں ہے۔ پاک فیڈریشن سپین کے صدر چوہدری ثاقب طاہر نے سپریم کورٹ سپین  کے اس فیصلہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے، آتونامو ٹیکس ادا کرنے والوں کیلئے ایک بڑی آسانی سے تشبیہہ دی ہے کہ اس طرح  وہ اپنے کاروبار میں توسیع کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ثاقب طاہر نے پاکستانی کمیونیٹی سپین کے وہ افراد جو کہ آتونامو ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ انہیں اس فیصلہ سے پیدا ہونے والے مثبت نتائج سے مستفید ہونے کیلئے اپنے ٹیکس وکیل 'خیستور' سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ /ف۔ یورپ پریس

Comments are closed.

error: Content is protected !!