October 22, 2017
You can use WP menu builder to build menus

بس پریس۔کام۔ بارسلونا حملہ کے الزام میں گرفتار 4 افراد میں سے ایک ہولی چیملال جو کہ ال کانار گائوں کے گھر میں ایک بم حملہ میں زخمی ہو کر گرفتار ہوا تھا، نے عدالت میں اعتراف کیا ہے کہ، اس کا گروہ بارسلونا کی تاریخی عمارات میں سے کسی ایک پر بڑا بم دھماکہ کرنا چاہتا تھا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق ہولی کے پولیس کو دیے گئے بیان کی بنیاد پر پولیس کو اس گروہ کی سرگرمیوں سے متعلق تفتیش کرنے میں معاونت ملی ہے۔ وہیں ہولی کے بیان کے مطابق گروپ کا رہنما امام مسجد ریپویع، عبدالباقی، اس طے شدہ بم حملہ میں اپنی جان دینے کا خواہشمند تھا۔ ہولی کا عدالت میں بیان سوا گھنٹہ جاری ہے۔ جس میں ہولی نے اعتراف کیا کہ، گروہ ال کانار، تاراگونا کے گھر میں بم تیار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاکہ بارسلونا میں بڑا بم دھماکہ کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ، ال کانار کا گھر اسی بم کی تیاری کے دوران دھماکہ خیز مواد پھٹنے کے باعث تباہ ہو گیا تھا۔ گھر سے پولیس کو 100 کے قریب گیس سلنڈر بھی ملے ہیں۔ جبکہ ہولی کو اسی گھر سے زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ہولی کے مطابق وہ ذاتی طور پر اس بڑے بم دھماکے کو رات کے وقت کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ کم سے کم جانی نقصان ہو۔ ہولی کے مطابق اس کے ال کانار دھماکہ میں ہلاک نہ ہونے کی وجہ، اس کا رات کے کھانے کے برتنوں کو سمیٹنے کیلئے بالکون میں موجود ہونا تھا۔ دوسرے گرفتار شدہ 28 سالہ دریس اوکبیر، نے عدالت کو 1 گھنٹہ دیے گئے بیان میں موقف اختیار کیا کہ، اس سے اس کے بھائی نے گھریلو سامان کی منتقلی کیلئے ایک ویگن کرایہ پر لے کر دینے کی درخواست کی تھی۔ اور اس نے اپنے کاغذات پر یہ ویگن کرایہ پر لے کر دی تھی۔ جو بعد ازاں بارسلونا حملہ میں استعمال ہوئی۔ اور اس کا اس تمام گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے قبل دریس نے پولیس میں بیان دیا تھا کہ، اس کے بھائی نے اس کے شناختی کاغذات چوری کرنے کے بعد ویگن کرایہ پر لی تھی۔ دریس اس سے قبل 2012 میں فیگیرس، جیرونہ کی جیل میں جنسی زیادتی کے الزام میں ایک ماہ کا عرصہ گذار چکا ہے۔ پی سی او کے مالک صالح القریب نے عدالت میں اعتراف کیا کہ، اس نے دریس او کبیر اور امام مسجد ریپویع کیلئے انٹرنیٹ سے مراکش سفر کیلئے ہوائی جہاز کے ٹکٹ خریدے تھے۔ اور وہ یہ خدمت کمیشن کے عوض کرتا تھا۔ اور اس کا معمول تھا۔ چوتھے گرفتار محمد اعلی کے مطابق، کمبریلز حملہ میں استعمال ہونے والی آئوڈی گاڑی کا اصل مالک اس کا بھائی تھا۔ اور وہ چونکہ ایک اور گاڑی کا مالک بھی تھا۔ اس لئے اس کے بھائی نے گاڑی اس کے نام سے خریدی تھی۔ تاکہ انشورنس کی رقم کی ادائیگی میں چھوٹ حاصل کر سکے۔ محمد اعلی کے مطابق، اس کو آگاہ کیا گیا تھا کہ، اس کا بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ پیرس جا رہا ہے۔ اور اس کا اس تمام گروہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ف۔ای ایف ای 

Comments are closed.

error: Content is protected !!