October 22, 2017
You can use WP menu builder to build menus

بس پریس کام۔ اسلامک کمیشن آف سپین جلد ہی سپین کی تمام مساجد کے اماموں سے متعلق سروے شروع کروا رہا ہے۔ جس میں ان امام مساجد سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی کہ، آیا، وہ باقاعدہ معاہدہ کے تحت یہ ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ یا رضاکارانہ طور پر یہ ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ وہیں ان کے جزوقتی یا کل وقتی امام سے متعلق معلومات بھی سامنے آئے گی۔ اسلامک کمیشن نے پولیس حکام سے بھی مساجد کے اماموں سے متعلق معلومات کے تبادلہ کی درخواست کی ہے۔ اس سروے کے بعد کمیشن امام مساجد کی تعلیم و تربیت کا بندوبست بھی کرے گا۔ کمیشن کے صدر تاتاری کے مطابق کمیشن کے تحت کورسز پاس کرنے والے امام مساجد کو سرٹیفیکیٹ جاری کیے جائیں گے۔ اور اس دوران امام مساجد کے ذہنی رحجان کا بغور جائزہ بھی لیا جاسکے گا۔ کمیشن کی جانب سے یہ بیان ریپویع مسجد کے امام کے بارسلونا حملوں میں ملوث ہونے اور ماضی میں چرس اسمگلنگ کے باعث جیل کاٹنے اور ایمیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے باعث ملک بدری کی معلومات سامنے آنے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ میڈریڈ اسلامک کلچرل سینٹر کے سمیع المصتوی کے مطابق امام مسجد اور خطیب یا باقاعدہ مذہبی تعلیم یافتہ شخص کے درمیان فرق کو واضح کرنا لازمی ہوگا۔ اور بدقسمتی سے اس وقت سپین میں ایسا کوئی نظام وضع نہیں ہے۔ جس سے مقامی خطیب تیار کیے جاسکیں۔ پاک فیڈریشن سپین کے صدر ثاقب طاہر کے مطابق، فیڈریشن ایک عرصہ سے امام مساجد کی باقاعدہ تعلیم و تربیت کی حامی ہے۔ وہیں اس بات کی بھی حمایت کرتی ہے۔ کہ، امام مسجد کو مقامی ثقافت، قوانین اورزبان پر عبور ہونا چاہیے۔ تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنا موقف بیان کرسکے۔ف۔مسجد ایم 30 

Comments are closed.

error: Content is protected !!